نئی دہلی،8؍ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ نے اس بارے میں فیصلہ محفوظ کر لیا ہے کہ کیا غیر سرکاری تنظیم سوراج انڈیا ٹرسٹ کے چیئرمین کوبیکار درخواستیں دائر کرنے پر 25 لاکھ جرمانہ ادا نہ کرنے پر توہین عدالت کے مقدمے کا سامنا کرنا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے این جی اوکے صدر سے کہاہے کہ وہ تین دن کے اندر معافی نامہ داخل کر سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ میں جسٹس سنجے کشن کول نے صدر راجیو دہیا سے کہاہے کہ عدالتی نظام میں ایک فریق جیتتا ہے ، دوسرا ہار جاتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ انصاف نہیں ہوا ، انصاف وہ نہیں جو آپ چاہتے ہیں۔ انصاف آپ کی اپنی آنکھوں اوررویے سے چلتا ہے ، آپ کی مرضی سے نہیں۔ ہم آپ کو اس زبان میں سمجھاتے ہیں جو آپ بول رہے ہیں۔
آپ براہ راست عدالتی نظام کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں اور جو کچھ آپ کے ذہن میں آئے وہ عدلیہ اور ججوں کے سامنے بول رہے ہیں۔ہمارا کام انصاف کرنا ہے۔ ہم انصاف کرنے بیٹھے ہیں۔آپ جو کہیں گے ہم پر اثر نہیں کرے گا۔ قانون سب کے لیے برابرہے۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اسے کیسے استعمال کرتے ہیں۔ اب آپ اپنے لائسنس یافتہ پستول سے کسی کو گولی ماریں اور پھر کہیں کہ قصور میرا نہیں بلکہ لائسنس کاہے۔ کیایہ کوئی طریقہ ہے؟ یہ اس طرح نہیں چلے گا ، لیکن آپ کی عادت ہے کہ اتنا کیچڑ اچھالیں کہ سامنے والاخودپیچھے ہٹ جائے۔